afrozqadri

[کچھ میری بابت]

                یکم جنوری؍۱۹۷۹ء کی کسی ساعت میں علم و اَدب کے حوالے سے مشہور خطہ ’چریاکوٹ‘ میں واردِ جہانِ رنگ وبو ہوا۔ ’محمد اَفروز احمد‘نام رکھا گیا؛ (پھر آگے چل کر یہی نام ’محمد افروز قادری چریاکوٹی‘ کے روپ میں ظاہر ہوا)۔ تعلیم کے اِبتدائی مراحل مقامی مدرسہ’دار العلوم قادریہ‘ میں طے کرنے کے بعد شوقِ تعلیم کشاں کشاں کھینچ کر اہلسنّت کی مرکزی درسگاہ ’جامعہ امجدیہ ‘ گھوسی لایا جہاں دورۂ عا  لمیت مکمل کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ پھر جنوبی ہند کیرالا کی بین الاقوامی شہرت یافتہ یونیورسٹی ’جامعۃ الثقافۃ‘ سے فضلیت وتخصّص کیا۔ علی گڑھ اور الہ آباد بورڈ کے سارے اِمتحانات دیے۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی تحصیل میں چند ایک سال ممبئی اور پٹنہ وغیرہ کے دورے کرنے پڑے۔ اسی بیچ مختلف قراے عظام سے تجویدو قراء ت کے اَسرارورموز بھی سیکھے۔ تدریس کا باضابطہ آغاز بطورِ پرنسپل’جامعۃ الرضا‘ بریلی شریف سے کیا، جہاں حضور تاج الشریعہ علامہ اختررضا خاں ازہری نے ناچیز کو خلافت واِجازت سے مشرف فرمایا، اور قصیدۂ بردہ و دلائل الخیرات شریف سمیت جملہ اورادووظائف کی تحریری اِجازت مرحمت فرمائی۔ پھر ۲۰۰۶ء میں اِسلامک لیڈر شپ کے حوالے سے معروف دانش گاہ ’دلاص یونیورسٹی، کیپ ٹائون‘ کے شعبۂ اِسلامیات میں اُردو لیکچرر مقرر ہوا، اور -الحمدللہ-ہنوز اسی پیغمبرانہ مشغلے سے وابستہ ہوں۔

                کیپ ٹائون، سائوتھ افریقہ کا سفر کئی اِعتبار سے میری زندگی کا ایک انقلابی موڑ ثابت ہوا۔ یہاں سکھانے کا موقع کم اور سیکھنے کے مواقع زیادہ میسر آئے۔ دنیا جہان  سے تشریف لانے والے علماومشائخ سے براہِ راست اِستفادہ کرنے کی سعادت نصیب ہوتی رہتی ہے۔ علمی ماحول کے زیر ِ اَثر رہ کر یہاں بہت کچھ کرنے کا حوصلہ اور ذہن ملا۔ ’چراغِ اُردو‘ کے نام سے تاریخِ سائوتھ افریقہ میں سب سے پہلا اُردو اَخبار جاری کیا،جسے بے پناہ مقبولیت ملی۔ خصوصاً یہاں کی یکسوئی نے تصنیف وتالیف کا سنہرا موقع فراہم کیا۔ اب تک اُردو، ہندی اور انگلش میں خاکسار کی کوئی تیس کتابیں ’نعمانی بک ڈپو ‘ نیز دیگر مکتبوںسے شائع ہوچکی ہیں، اور ابھی اتنی ہی تشنہ طبع ہیں۔ وقت ہزار نعمت … بولوں سے حمت پھوٹے… آئینہ مضامین قرآن… مرنے کے بعد کیا بیتی؟… اور مشکل آسان ہوگئی… ترجمانِ اہل سنت… فرشتے جن کے زائر ہیں… کلامِ الٰہی کی اَثر آفرینی… کاش نوجوانوں کو معلوم ہوتا!… مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ پر اِلزامِ خود کشی کیا غلط کیا صحیح!… چار بڑے اقطاب… مذاق کا اِسلامی تصور… باتیں جو زندگی بدل دیں مع اُن کے بول بہاروں جیسے… بچوں کی اخلاقی تربیت کے لیے کہانیوں کے ساتھ چالیس حدیثیں… اربعین مالک بن دینار… اے میرے عزیز!… اپنے لخت جگر کے لیے…پیارے بیٹے!… موت کیا ہے؟…’یارسول اللہ! آپ سے محبت اور آپ پر درود کیوں؟… تحفہ رفاعیہ… انوارِساطعہ(تسہیل وتحقیق)‘وغیرہ معروف کتابیں ہیں۔ جب کہ فن تجویدو قراء ت پر تصنیف کردہ راقم کی ایک کتاب ’برکاتُ الترتیل‘ ہندوستان کے بہت سے اِداروں میں داخلِ نصاب بھی ہے۔ اور الحمد للہ! یہ ساری کتابیںalahazratnetwork.org , nafseislam.com اورmaktabah.orgاور انٹرنیٹ آرکائیوز سمیت بہت سی سائٹوں پر ہمہ وقت پڑھنے اور ڈائون لوڈ کے لیے دستیاب بھی ہیں۔اور بعض کتابیں بیس بیس ہزار مرتبہ ڈاؤن لوڈ کی جاچکی ہیں۔ مستزاد یہ کہ اُردووعربی اور انگلش میں ابھی کوئی چھ ہزار سے زائد صفحات منتظراِشاعت ہیں۔

                اِدھر کئی سالوں سے onlineٹرانس لیشن کی خدمات بھی انجام دیتا آرہا ہوں۔ ڈارونزم کے پرخچے اُڑا دینے والے مشہورِ زمانہ قلمکار’ہارون یحییٰ‘کی کئی ایک کتابیں میرے اُردو ترجموں کے ساتھ اِشاعت پذیرہوئی ہیں، ان کے بہت سے آرٹیکلز کا ترجمہ بھی میں نے کیاہے جو اُن کے ویب پیج پرموجود ہیں۔ ابھی حال ہی میں ترکی کے شیخ عثمان نوری توپ باش کی کچھ کتابیں بھی جامہ اُردو میں منتقل کی ہیں اور ہنوزCollaborationجاری ہے۔ نیز مختلف علمی و فکری، اَدبی وتنقیدی اور فقہی وتحقیقی موضوعات پر درجنوں مضامین و مقالات، تبصرے اور تجزیے بھی رقم کیے ہیں۔ سردست فروغِ دین ومسلک کی لگن میں جٹا ہوا ہوں، جتنا کچھ کرسکتا ہوں اس سے دریغ نہیں کرتا، اور جو نہیں کرسکتا اس میں ٹانگ بھی نہیں اَڑاتا۔ بس دعا فرمائیں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس جذبے کو سلامت رکھے اور دارین کی سعادت کے کام کرنے کی توفیق میرے رفیق حال فرمادے۔                                                                                                                 


     [بقلم مؤلف]