() تقریظ بولوں سے حکمت پھوٹے،صفحہ:۱۳۔
[۲]
علامہ قمرالزماں مبارکپوری - جعفر لائبریری، مبارک پور،اعظم گڑھ۔
مولانا محمد افروز قادری‘ قصبہ چریاکوٹ کی اُس نئی نسل سے تعلق رکھتے ہیں جن کے آثارِ قلم چریاکوٹ کی علمی بزمِ دوشیں کی بساطِ دانش کی یاد کو تازہ کرتے ہیں۔ تحقیق وتدقیق اور سیرت وتذکرہ کی بہارِ رفتہ کو چمن آرائی کے لیے آواز دیتے اور چمن بندی پر ابھارنے کی خواہش کا اِظہار کرتے ہیں۔ ان کی کئی کتابیں زیورِ طبع سے آراستہ ہوکر اہل علم ونظر سے خراجِ تحسین حاصل کرچکی ہیں۔ ان کی عمراور تعلیم وتدریس کی مصروفیات کو دیکھنے کے بعد مجھے اس اعتراف میں کوئی تردّد وتکدر نہیں محسوس ہوتا کہ انھوں نے قلم کی روانی اور فکر کی شادابی کے جو ثبوت فراہم کیے ہیں وہ بجائے خود ایک بہت بڑے محیر العقول کارنامے کا پیش خیمہ ہے۔ مستقبل میں منصہ شہود پر آنے والے اُن کے جو ذہنی خاکے اور تصنیف وتالیف کے منصوبے ہیں وہ بے پناہ خوش آئند اور اُمید افزا ہیں۔ مولانا آج کی صارفیت کے دور میں یقیناہمارے علمی اِسلاف کے مزاج ومعیار اور اُن کی تہذیبی وثقافتی محویت ومجذوبیت ِفکروذہنی کی وراثت کے امین ہیں، یہی نہیں ان کی روایات کی فکری جہت کو نئی سمت دینے اور اس کی توسیع کرنے والے ذہین، صاحب صلاحیت اور ذی لیاقت قلم کار ہیں؛ ورنہ اِس مادّیت کے روحانیت سوز اور اخلاقیت وانسانیت سے گریزاں عہد جنوں خیز میں ’کون ہوتاہے حریف مئے مردافگن عشق‘۔ آج صلاحیتوں کے اظہار اور مخفی قوتوں کو جگانے جیسے مبارک عمل میں کسی ادنیٰ درجے کی سوچ کو بھی بازاریت ہی کی میزانِ قدر میں تولنے کا عمل پہلے جاری ہوجاتا ہے۔ دنیاوی منفعت ومصلحت کے نقطہ نظر سے تفحص وتجربہ کرنے کے بعد ہی آغازِ کار ہوتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ علم دین جیسے الٰہی کام میں بھی اندیشہ سودوزیاں اور اندازۂ نفع وضررکو اولین اوّلیت حاصل ہوتی جارہی ہے۔ اَجراُخروی کو تصورات کے پس منظر میں ڈال دیا جاتا ہے۔ ایسے پُر آشوب دور میںجو مردِ مومن صلہ وستایش کی تمنا سے بے نیاز ہوکر پرورشِ لوح وقلم کے جذبے سے سرشار ہوجائے اور قافلۂ شعور کی رَو کو تیز تر کرنے کی ذمہ داری کا بوجھ اپنے کاندھے پر اُٹھانے کا جوکھم مول لے لے وہ بہرعنوان لائق صد آفریں اور مستحق کلماتِ تحسین ہے، اور اس کی حوصلہ مندی کی داد نہ دینا یقینا بخل کی علامت ہے۔
مولانا کو تحقیق سے واقعی مناسبت ہے۔ انھوں نے معلوم سے نامعلوم کو دریافت کرنے اور اِشاروں کی مدد سے حقیقت کے دروازے تک پہنچنے میں اپنی خداداد صلاحیت سے کام لیا ہے۔ انھوں نے بیان کے تعلق سے بعض ایسے پہلو بھی دریافت کرلیے ہیں جن کی طرف کسی اور کی نگاہ نہیں گئی تھی۔ اس قسم کے نوادرات سے اس تذکرہ کی تجزیاتی قدر بڑھ گئی ہے۔ مولانا محمد افروز قادری نے اس ’تذکرۂ علماے چریاکوٹ‘ میں ’نئی پود نئی سوچ‘ کو عنوان بناکر تذکرہ نگاری کا حق اَدا کردیا ہے؛ اس لیے کہ تذکرہ نگاری واقعات وحالاتِ زندگی کے سنین وتاریخ اور شخصی وذاتی احوال وکوائف سے بھی آگے کی چیز ہے۔ وہی سیرت نگار لائق توجہ ہوتا ہے جو زیر بحث شخصیت کی تہوں کو اُلٹ پلٹ کر تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتا اور اس کے دروں میں جھانک کر نظری وفکری بحث کرسکتا ہو؛ ورنہ سوانح عمریاں واقعات کی کھیتونیاں اور اعداد وشمار کا گوشوارہ بن کر رہ جائیں گی۔
() پیش نوشت،تذکرۂ علماے چریاکوٹ۔ ازعلامہ قمرالزماں مبارکپوری۔
[۳]
علامہ مولانانفیس احمدمصباحی-اُستاد جامعہ اشرفیہ مبارک پور، اعظم گڑھ۔
فاضل نوجوان حضرت مولانا محمد افروز قادری چریاکوٹی-زیدمجدہ- ،-ماشاء اللہ- بہت سی خوبیوںکے مالک ہیں۔ انھیں اللہ تعالیٰ نے حسن صوری کے ساتھ جمالِ معنوی سے بھی بہرہ ور کیاہے۔ بہترین عالم دین، شان دار قاری ، باذوق قلم کار، نکتہ رس ادیب اور اچھے شاعرتو ہیںہی ؛ اس پر مستزاد یہ کہ ان کا مزاج تعمیری، فکر صالح اور روش عالمانہ اور دین دارانہ ہے ۔ عمرکے لحاظ سے توابھی جواںسال ہیں لیکن تحریر ایک تجربہ کار،منجھے منجھائے پختہ عمر قلم کار کی طرح پختہ،بے جھول، شستہ اور رواں دواں ہوتی ہے۔ مولانا کا وطن مالوف مشرقی اترپردیش کا مردم خیز قصبہ چریاکوٹ ، ضلع مئو ہے جو عہد ماضی میں اہل علم و اَدب کا مرکز رہ چکاہے۔ مولانا موصوف سردست ‘سیاسیات کے حوالے سے کیپ ٹائون ،سائوتھ افریقہ کی مشہور یونیورسٹی ’’دلاص‘‘ میںمذہب مالکی اور زبانِ اُردوکی تعلیم و تدریس کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں، ساتھ ہی سائوتھ افریقہ کی تاریخ میں’چراغِ اُردو ‘ کے نام سے پہلا مستقل ماہانہ اُردو اخبار نکال کر اپنی تحریری سرگرمیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مقام حیرت و مسرت ہے کہ افریقہ کی سرزمین صدیوں سے اَرباب علم وفضل کی آماجگاہ رہی ہے؛ مگر کبھی بھی وہاں کوئی اُردو اخبار اشاعت پذیر نہ ہوا؛ شاید یہ سعادت بھی انہی کے حصے میں آنا تھی۔ مولاناکی یہ کوشش انقلاب آفریں اورتاریخ سازکہی جائے گی؛ اس کے لیے وہ نہ صرف مجھ سے بلکہ پوری اُردو داں برادری سے بندھائیوں کے مستحق ہیں۔
() ملخصاًازمقدمہ انوارِ ساطعہ جدید:۳۷تا۳۸۔
[۴]
ڈاکٹرامجدرضا امجد - مدیر اعلیٰ رضابک ریویو‘وسہ ماہی آیات ، پٹنہ، بہار
کتاب’وقت ہزار نعمت’کے مصنف مولانا محمد افروز قادری چریاکوٹی ہیں۔ آپ دلاص یونیورسٹی،کیپ ٹائون، سائوتھ افریقہ میں لکچرر ہیں۔ شخصیت پرکشش ہے، علم سے گہری وابستگی ہے۔ مصروف رہنا اُن کی فطرت ہے،ا ور دوسروں کو مصروفِ عمل دیکھنا اُن کی خواہش…۔
()
سہ ماہی آیات، امریکہ،بابت اکتوبر،نومبر،دسمبر۲۰۱۱ء۔صفحہ:۵۱۔
مولانا محمد افروز قادری چریاکوٹی کو علم وعمل اورخلق وخلوص سے وافر حصہ عطا ہوا ہے جس سے اُن کی شخصیت بڑی پرکشش اور قابل رشک ہوگئی ہے۔ انھیں نظم و نثردونوں پر یکساں دسترس حاصل ہے۔ اُن کے مضامین اورنعتیہ وطربیہ غزلوں میں ان کی شخصیت کی جمالیاتی صفت نمایاں طورپرموجود ہے۔
()
تقدیم بزم گاہِ آرزو۔ از،ڈاکٹر امجد رضا امجد،پٹنہ
مولانا افروز قادری صاحب ایک حساس دل اور بیدار مغز انسان ہیں۔ حالات پر اُن کی نظر ہے۔ انھوں نے اِسی تناظر میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی سوانح حیات قلم بند کی ہے؛ تاکہ اس کے ذریعہ معاشرے کے فکری اِنتشا ر اور تعلیمی اِنحطاط و زبوںحالی پر قابو پایا جاسکے۔
()
تقدیم چند لمحے اُم المومنین کی آغوش میں۔ از،ڈاکٹر امجد رضا امجد،پٹنہ
[۵] علامہ مفتی سیدمحمد رضوان رفاعی - استاذجامعہ اہلسنّت صادق العلوم، ناسک
شخصیت نگاری درحقیقت اِنسانیت اور نمونۂ اِنسانیت کی جستجو کا نام ہے۔ تصنیفات وتالیفات کی ہزار اہمیتیں سہی؛ مگر نسلوں اور قوموں کو جو بہتر اِنسان بننے کا عزم عطا کردے وہی اِنسان نمونۂ عمل بن جاتاہے۔ اِعزازِ انسانی اورتکمیل شخصیت کے بلند میناروں سے دعوتِ حق وصداقت دینے والے کا حرف حرف روحوں کو جھنجوڑدیتاہے، یہ ہے اَدیب شہیر ابورفقہ علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی کا ماضی وحال۔
عمرچھوٹی، بالکل جوان؛ مگر تخیل وپروازکے دائرے گوناگوں اورآفاقی خصوصیات کے حامل۔ مجلس اَحباب میں سب سے ممتاز؛ مگر ملنسار خاکسار۔ فی الحال افریقہ کی عظیم ’دلاص یونیورسٹی‘ میں تدریسی خدمات پر مامور ہیں۔ اس مصروفیت کے باوجود یہ خلوص وللہیت ہی تو ہے کہ ملت اِسلامیہ کی رہبری کے لیے لخت لخت موضوعات پر آپ کے درجنوں مقالات اور کتابیں ہندوپاک کی سرزمین پر حیاتِ نو کا پیغام دے رہی ہیں۔ پیش نظر کتاب(کاش! نوجوانوں کومعلوم ہوتا!)میں دورانِ مطالعہ ہر قاری کو اس حقیقت کا احساس ہوگا کہ ابورفقہ کا مچلتا قلم لگی لپٹی کا قائل نہیں بلکہ اُن کے قلم میں اُبھرتے نوجوانوں کی اِصلاح کے لیے عصری تقاضوں کی وہ تمام رعنائیاں اور عناصر موجود ہیں جو صرف مرض کی تشخیص ہی نہیں کرتا بلکہ بیمار روحوں کے ڈھیلے پرزوں کو شفا دینے کاہنر بھی رکھتاہے۔اللہم زِد فزد۔ اخی الفاضل ابورفقہ کے دینی ومذہبی سفر کے حوالے سے یہ چند الفاظ سپردِ قرطاس کرتے ہوئے اُنھیں کے اِس پیغام پر رخصت ہوا چاہتاہوں ؎
میں گھنی چائوں میں آرام کا قائل ہی نہیں
میرا دشمن کہیں سرگرم سفر ہو شاید
() سپاس نامہ، کاش! نوجوانوں کو معلوم ہوتا:۴۷…و…جامعۃ الازہر کا ایک تاریخی فتویٰ:۲۲۔
پنجتن پاک کے نام کی برکت پانے کی خاطر بس انھیں پانچ تا ٔثرات پر اپنی آپ بیتی کا باب بند کرتا ہوں، اِس دعاے دلی کے ساتھ کہ اے کریم پروردگار! جس طرح تونے میرے ماضی پر نگاہِ کرم فرمائی ہے، اُسی طرح حال ومستقبل کو بھی اپنی نوازشوں سے منور و تاباں فرما، اور میرے گناہوں کے باعث اپنی عطاو نوال کا سلسلہ منقطع نہ فرما۔ زندگی کی جتنی سانسیں بچ رہی ہیں انھیں اپنی اور اپنے رسول کی رضامیں گزارنے کی توفیق دے، اور ہروہ کام کرنے کی لگن جتن عطاکر جو میرے دونوں جہان اَچھے کردیں۔ آمین یا رب العالمین۔ اللّٰہم اغفر لنا وارحمنا ولوالدینا ولأساتذتنا ولمـن أعاننا ولـجمیع المسلمین یا أرحم الراحمین ، وبجاہِ حبیبک المصطفیٰ ونبیک المرتضیٰ طہر قلوبنا من کل وصف یباعدنا عن محبتک ومشاہدتک وأمتنا علی السنۃ والجماعۃ و الشوق إلی لقائک یا ذا الجلال والإکرام ۔